بسم اللہ الرحمن الرحیم 
Let's multiply GOODNESS 

کئی تعلیمی اداروں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ صدر دروازے پر سیکورٹی گارڈس، زینے کے قریب اور ہر فلور پر پیون، ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈسپلن کمیٹی، ان سب کا تقرر کیا جاتا ہے۔ یہ سب کس لیے؟ بچوں کو قابو میں رکھنے کے لیے۔ ان سب پر کتنا پیسہ اور وقت صرف ہوتا ہے؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال کا پانچ لاکھ روپئے اور کم و بیش پانچ ہزار گھنٹے۔
نتیجہ؟ کوئی زیادہ فرق نہیں۔ بچوں کی عمومی بے راہ روی قائم رہتی ہے بلکہ کبھی کبھی تو اس میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بچوں کو قابو میں رکھنے کا یہ طریقہ ناکام ہے۔
اگر بچوں کی اخلاقی تربیت کردی جائے تو وہ خود کے لیے اور ادارے کے لیے محافظ اور انمول سرمایہ بن سکتے ہیں۔ اس سے اداروں کے لاکھوں روپئے اور ہزاروں گھنٹوں کی محنت بچائی جاسکتی ہے۔
آئیے گُڈ کیریکٹر کمپنی کے ساتھ اداروں کا فائدہ کریں۔

ڈاکٹر عبدالماجد انصاری

ڈائریکٹر گُڈ کیریکٹر کمپنی