بسم اللہ الرحمن الرحیم
Let's multiply GOODNESS
روزانہ کے واقعات پڑھنے والے ایک محترم قاری صاحب سے ایک دن میں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ روز روز تربیت کے متعلق لکھنے سے کیا قارئین کرام اوب گئے ہوں گے؟ کیا اوور ڈوز تو نہیں ہورہا ہے؟ اور اس کی وجہ سے تحاریر اپنا اثر تو نہیں کھو رہی ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تحریریں یا تو پڑھی ہی نہیں جاتیں یا صرف وقت گزاری کے لیے پڑھی جارہی ہیں، عملی اقدامات نہیں ہورہے ہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ چوں کہ تحریریں مختصر ہوتی ہیں اور روز ایک نیا واقعہ ہوتا ہے، اس لیے دلچسپ ہوتی ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کو بغور پڑھا جاتا ہوگا اور اخلاقی اقدار کی آبیاری کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جاتے ہوں گے۔
اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو رہا ہو۔
کیا آپ سب قارئین بھی ان کی رائے سے متفق ہیں؟ اگر بتانے کی زحمت گوارا کریں گے تو بڑی مہربانی ہوگی۔
ڈاکٹر عبدالماجد انصاری
ڈائریکٹر، گُڈ کیریکٹر کمپنی