بسم اللہ الرحمن الرحیم 
Let's multiply GOODNESS 

ایک تعلیمی ادارے میں یہ عرض کیا گیا کہ بچوں کی اخلاقی تربیت کرنا ازحد ضروری ہے اور اس کے لیے ہدف طے کیا جائے۔ مثلاً؟ ادارے میں سال بھر امتحانات میں نقل کرنے کا ایک بھی معاملہ سامنے نہ آئے۔ کہا گیا کہ ایسا تو اکثر ہمارے ادارے میں ہوتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ مجبوری اور نگرانی میں نہیں مرضی سے ایسا ہو۔ یعنی؟ یعنی کہ امتحان کے شروع میں بچوں کو سوالیہ اور جوابی پرچے دے کر سُپروائزر واپس آجائیں اور تین گھنٹوں کے بعد جاکر جوابی پرچے جمع کرلیں۔ اس درمیان کوئی بھی نقل نہ کرے۔ اگر ہم ایسا کر سکے تو بچے تربیت یافتہ کہلائے جاسکتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالماجد انصاری
ڈائریکٹر، گڈ کیریکٹر کمپنی